Tuesday, September 26, 2006

صدر مشرف کی کتاب اور بی بی سی کا رد عمل

صدر پاکستان نے اپنی زندگی اور اپنے خیالات کو مربوط انداز میں پیش کرنے کے لیے ایک کتاب لکھی ہے ۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ اس خبر کے سلسلے میں بی بی سی اردو سروس کی ابتدائی ریپورٹس اس کتاب کے خلاف سی تھیں اور صاف دکھائی دیتا تھا کہ ہر طرح کی کوشش کی جا رہی کہ لوگوں کو اور خاص طور پر پاکستانی عوام کو اس کتاب کے سلسلے میں گمراہ کیا جاۓ ۔ میرے خیال میں کتاب لکھنا کوئی برا فعل نہیں ہے ۔ اور کتاب میں اپنے خیالات پیش کرنا بھی برا نہیں ۔ تو پھر ایسا کیوں ہے کہ اسے متنازع بنایا جاۓ ۔کتاب پڑھنے کے لیے لکھی جاتی ہے ۔ لوگوں کو اسے پڑھنے دیا جاۓ اور پھر پول وغیرہ کراۓ جائیں ۔

یہ ایک الگ بات ہے کہ کتاب کو جتنا متنازع بنا کر پیش کیا جاۓ گا اتنا ہی اس کے لیے لوگوں میں اس کا مواد پڑھنے کے لیے دلچسپی بڑھے گی ۔ لیکن کتاب پاکستان میں مقبول ہونے کی صورت میں اب رپورٹنگ کسی حد تک سنجیدہ کی جا رہی ہے ۔ جو بی بی سی کے صفحات دیکھ کر محسوس کیا جا سکتی ہے ۔

یہ تحریر نا مکمل حالت میں غلطی سے اردو ٹیکنالوجی بلاگ میں پوسٹ ہو گئی تھی ۔ جس کے سلسلے میں معذرت قبول کیجیے ۔

پاکستان سے بلاگ تک رسائي حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گے ربط کو استعمال کریں ۔

http://www.pkblogs.com/shameelblog

4 comments:

Anonymous said...

کتاب لکھنا بری بات نہیں؟ کیا آپ کا رشدی کے بارے میں بھی یہی خیال ہے؟

بی‌بی‌سی کی رپورٹس کے غلط ہونے کی کوئی دلیل بھی تو دیں۔ کم از کم کوئی ربط ان کی کسی غلط رپورٹ کا۔

Khawar said...

اصل میں مشرف صاحب کے ابتک کے حالات ذندگی دیکهیں تو جهوٹ کہـ مکرنیاں اور لوٹکهسوٹ سے بهری پڑی هے ـ
اس لیے کتاب کے آنے سے پہلے اس کتاب کو جهوٹ کا پلنده سمجهنے والے بهی غلط نہیں تهے ـ
آپ مشرف صاحب کے حالیه بیانات دیکهیں بنانا ریپبلک والا
ان صاحب کی گہی ایک بات بهی پاکستان میں ہوتی تو خود ان صاحب کی حکومت بهی ناں ہوتی ـ

ایک بات یه بهی ہے که یه صاحب کتاب لکنے کے اہل هی نہیں ہيں یه کتاب لکهوائی گئي ہے ـ
اور وقت بتائے گا که اس میں بهی قوم کو گمراه کرنے کی کوشش تهی ـ
ان صاب کی پیدائیش اور ہونا هي غلط ہے
کیونکه ان صاحب نے میرے ملک پاکستان پر ناجائز قبضه کیا ہوا ہے ـ

محمد شمیل قریشیShameel Qureshi said...

صاحب اور خاور صاحب : تحریر پر راۓ‌ دینے کا شکریہ ۔ Anonymous
میں روزانہ ہی بی بی سی کی سائٹ پر جاتا ہوں ۔ اور کتاب کے سلسلے میں محسوس کر رہا تھا کہ وہاں پر مضامین میں مشرف صاحب کی کتاب کو سنسنی خیز معلومات کے مجموعے کی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے اور ایسی معلومات جس کی ہر کوئی ہی تردید کر رہا ہو ۔ بی بی سی جیسے بڑے بڑے خبر رساں ادارے اپنی رپورٹنگ میں خبر کو غلط انداز میں پیش کرنے کی کبھی غلطی نہیں کرتے ۔ وہ صرف خبر کو کوئی سا بھی رنگ دیدیں ۔ یہ ان کی مرضی پر منحصر ہے ۔ خبروں کی رنگ بھرائی میں وہ ایسے ما خز تراشتے ہیں جو ان کی من پسند بات ہی کہتے ہیں ۔ اس طرح ان کی من پسند بات خبر کا حصہ بن جاتی ہے اور وہ یہ بات کہ کر دامن بچا لیتے ہیں کہ یہ بات ہم نے تو نہیں کہی ، یہ تو فلاں صاحب کا فرمان ہے ۔ ہم تو بس خبر آپ تک پہنچانے کا ذریعہ ہیں ۔

برٹش آل انڈیا کمپنی ہو یا برٹش براڈکاسٹینگ کمپنی ، دونوں کو اپنے مفادات زیادہ عزیز ہیں ۔ وہ ایک خاص ایجنڈا لے کر ہی آتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اس سرمایادارانہ دور میں بھی یہ کمپنی صرف اور صرف اپنے مخصوص ایجنڈے کو ہی سامنے رکھنے کے لیے مفتے میں پوری دنیا میں خبر لے کر آتی ہے ۔

کتاب کے سلسلے میں اب تک کے تمام میسر مواد کا جائزہ لیا جاۓ تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بھی بات ایسی نہیں لکھی گئی جو پہلے ہمارے علم میں نہ ہو ۔ آیا وہ بات بش صاحب کے مشہور تڑی دینے والے انداز کی ہو یا پھر وہ مشرف صاحب کے شریف صاحب اور بے نظیر سے ناراضگی کی ہو ۔ ڈاکٹر قدیر کے بارے میں بیانات وہی ہیں جو دو سال پہلے تھے ۔ کارگل میں وہی مؤقف اپنایا گیا ہے جو سات سال پہلے اپنایا گیا تھا ۔ کوئی بات بھی تو نئی نہیں ۔ تو پھر اتنی تنکید کیوں اور وہ بھی کتاب کے منظر عام پر آنے کے دن ۔ چلیں میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے گزشتہ پانچ دنوں کے اندر شائع ہونے والا ایک مضمون ہی دکھا دیں جہاں پر اس کتاب کی تعریف کی گئي ہو ؟ ( یہ بات یاد رکھی جاۓ کہ آج یا کل کی بی بی سی پر آنے والی پوسٹس میں صرف اور صرف پاکستان میں سیل زیادہ ہونے کی بات کہی گئی ہے ) ۔ ۔

اور رہی بات " رشدی " والے پوائنٹ کی تو اس سلسلے میں ، میں ایک نظم کا شروعاتی حصہ پیش کرتا ہے ۔

بول کے لفظ آزاد ہیں تیرے
بول زباں اب تک تیری ہے ۔

یہ نظم اپنے اندر ایک خاص پیغام لیے ہوئی ہے ۔ اگر اس کے معنی کوئي یہ لے کہ اسے گالیاں دینی چاہیں اور ہر طرح کی فحش بات کہنی چاہیے کہ جو بھی دل میں آۓ کہ لفظ آزاد ہیں اور زباں بھی اس کی ہے تو یہ اس کی طفلانہ یا برائی پسند تبعیت کی ہی ترجمانی کرے گا نہ کہ اس کی مدبرانہ سوچ کی ۔ آپ جانتے ہیں کہ اس میں انسان کو صرف بولنے پر آمادہ کرنے کا زکر ہے نا کہ یک مشت ہی گالیاں تک دینے اور ہر بری اور فحش بات کہ جانے کا زکر ہے ۔ اسی طرح میرا یہ کہنا کہ " کتاب لکھنا کوئي برائی ہے ؟ " ایک جرنل بات ہے کہ کتاب لکھنا بری بات نہیں ۔ ہمارے یہاں " مصنف " کو ایک خاص عزت دی جاتی ہے اور ادبا میں اس کو شمار کیا جاتا ہے ۔ اور اس سے امید رکھی جاتی ہے کہ وہ اخلاقیات سے گری ہوئی بات نہیں لکھے گا اور تمام مذاہب کا احترام کرے گا ۔ اب اگر آپ میرے اس قول کو " رشدی " جیسے مذہب دشمن عناصر کی شرپسند اور فتنے کھڑے کرنے والی تصانیف سے جوڑ دیں تو میرے اس خیال کے ساتھ زیادتی ہو گی ۔

صدر پاکستان کی کتاب کو کم از کم اس قسم کی شر انگزیز کتب اور فتنے کھڑے کرنے والی کتب میں تو شمار نہ کیجیے ۔

میرا پاکستان said...

ہم خاور صاحب کی بات سے متفق ہیں کہ جس عمارت کی بنیاد ہی جھوٹ پر رکھی گئ ہو وہ عمارت جھوٹوں کی رہائش گاہ ہوتی ہے۔
جنرل مشرف نے ملک کیلۓ اب تک کچھ نہیں کیا جو کچھ کیا ہے اپنے غیرملکی آقاؤں کیلۓ کیا ہے اور اس کرنے میں اگر ملک کا بھی بھلا ہوگیا ہو تو اس کا کریڈٹ مشرف صاحب کو نہیں جاۓ گا۔ جس دن ملک پر محبِ وطن حکمراں حکومت کرے گا اس دن ملک کی شان ہی نرالی ہی ہوگی۔