Saturday, January 21, 2006

ایک اور تحفہ

چھے دن ہوۓ امی جان نے مجھے ایک ڈیجیٹل کیمرہ تحفہ میں دیا ہے ۔ یہ کیمرہ اولمپس کمپنی کا ہے ۔ اس سے پہلے میرے پاس یاشیکا کمپنی کا ائنالاگ کیمرہ تھا ۔ اس کیمرے میں ریل ڈالی جاتی تھی اور تصاویر مہنگی پڑتی تھیں ۔ اس قدر مہنگائی کے پیش نظر تصاویر کشی پھونک پھونک کر کی جاتی تھی ۔ صرف آہم داواتوں اور سالگرہ کی تقاریب میں ہی کیمرے کا استعمال کیا جاتا تھا ۔ کئی بار دل کیا کہ ڈیجیٹل کیمرہ لیا جاۓ پر کوئی ایسا ماڈل نہ دکھا جو کم خرچ بالا نشین ہو ۔ لیکن اس ماہ خوش قسمتی نے میرے گھر کا رستہ دیکھا اور ابو جان رحیم یار خان میں واقعہ شیخ زید میڈیکل کالج میں چلے گیے ۔ ابو جان کی موجودگی میں بہت سی خواہشات اول تو دل میں رہتی ہیں اور اگر پھر بھی بیان کرنے کی کوشش کروں تو لفظ کی فصیلوں پے ٹوٹ ٹوٹ جاتی ہیں ۔ ابو جان بڑے پتھر دل ہیں ۔ اور ان سے کسی چیز کی فرمائش کرنا بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہے ۔ ابو کی غیر موجودگی کا میں نے خوب فائدہ اٹھایا اور امی جان سے پہلے سراونڈ ساونڈ سسٹم لیا اور اب یہ ڈیجیٹل کیمرہ ۔ کئی مہینوں سے اس کیمرے نے میرے دل پر ہاتھ ڈالا ہوا تھا ۔ لیکن ابو جان کی موجودگی میں امی جان سے دس ہزار روپے کی فرمائش کرنا فضول تھا ۔پر اب ایسا ممکن ہوا اور میں جھٹ سے یہ کیمرہ لے آیا ۔

My cam

یہ تصویر اس کیمرے سے کھنچی گئی اولین تصاویر میں سے ہے ۔یہ خاتون کی تصویر میری امی جان ( میڈم کلثوم ناصرہ قریشی ) کی ہے ۔

My room

یہ کمپیوٹر ٹیبل ٹائپنگ کے دوران ہلتا ہے اس لیے کمپیوٹر کو اس ٹیبل سے ہٹا کے سٹڈی ٹیبل پر رکھ دیا گیا ہے ۔

Pic Of My Room

کمپیوٹر ، سٹڈی ٹیبل پے بھی بھلا دکھتا ہے ۔

Study Table

بستر کے ساتھ والی ٹیبل پر موجود گلدستے کی قریب سے ایک تصویر ۔

Pot Zoomed

سٹڈی ٹیبل کی کچھ کار آمد اشیا کی تصویر جو اب کمپیوٹر ٹیبل پر رکھ دی گئی ہیں ۔

Pc table zoomed

ایک دروازے کی تصویر ۔

Door Zoomed

اور یہ تصویر بھی ۔

Clock

1 comments:

Anonymous said...

well its fine