Saturday, December 17, 2005

درد اور دوا۔۔۔۔۔؟

کوئی تو ایسی سردیاں آئیں جن میں مجھے اس سردی ، نزلہ اور زکام کی بیماری سے پالا نہ پڑے ۔ادھر سردیاں آئی نہیں کہ اس بیماری کی شروعات ہوئی ۔ پہلے تو خیال تھا کہ کچھ دنوں میں خود بخود ہی ختم ہو جاۓ گی ۔ لیکن یہ بیماری طول پکڑتی گئ ۔ ڈاکٹر صاحب کے پاس جانا ہوا توانہوں نے ٹھک سے ایک انجیکشن میرے بائیں مونڈھے پر رسید کروایا اور ساتھ ہی رنگ برنگی گولیاں کھانے کو دیں ۔

ڈاکٹر الطاف ملک ، انجیکشن لگانے کے سلسلے میں کافی مشہور ہیں ۔ اس لیے ڈاکٹر صاحب کے پاس جاتے ہوۓ مجھے یہ غلط فہمی بالکل نہ تھی کہ اس بار انجیکشن لگوانے کی " روائتی " اور میرے لیے " انتہائی تکلیف دہ " رسم سے مجھے چھٹکارا حاصل رہے گا ۔ جیسے ڈاکٹر صاحب انجیکشن لگانے کے سلسلے میں " جانے جاتے " ہیں ، بالکل اسی طرح ان کے کمپاونڈر کچھ پڑھے لکھے حلقوں میں ایک ہی انجیکشن سے ایک دن میں تمام کے تمام سادہ لوح مریضوں کو " نمٹانے " میں مشہور ہیں ۔ اسی خدشے کے پیش نظر میں نے ابو جان سے کہا کہ ہم ڈاکٹر صاحب کے پاس ایک عدد انجیکشن خود سے خرید کے لے جائیں گے ۔ لیکن ابو جان نے اسے میرا ایک وہم قرار دیا ۔ اور میں خاموشی سے ابو کے ساتھ ہو لیا ۔ ڈاکٹر صاحب کے یہاں جیسے ہی میرے مرض کی تشخیص ہوئی اور جوں ہی انہوں نے ڈاکٹر پیڈ پر اپنے " خط شکشتہ " سبط کیے ، مجھے بخوبی علم ہو گیا ڈاکٹر صاحب نے میرے " درد " کي کیا " دوا " کی ہے ۔ میں جھٹ سے کمپاونڈر کی جانب دوڑا ۔ وہاں پہنچ کر میں نے کہا " بھائی! خدارا میرے لیے سیل بند انجیکشن ہی استعمال کیجیے " ۔ ان کے جواب کا انتظار کیے بغیر ہی میں نے ایک عدد سیل بند انجیکشن تھالی سے اٹھایا اور ان کے ہاتھ میں تھما دیا ۔ کمپاونڈر نے کہا " شامی! تمہیں ہمیشہ ہی مجھ پر شک رہا ۔ شک کا کوئی علاج نہیں ۔ یہ بتاؤ تمہیں کیسے علم ہو گیا کہ میں تمہیں انجیکشن ہی لگانے والا ہوں ۔" اس بات کا جواب ، میں نے بچوں کی سی معصومانہ مسکراہٹ سے دیا ۔ شاید اسی سے انہیں بھی یاد آگیا ہوگا کہ وہ مجھے بچپن ہی سے انجیکشن لگاتے آۓ ہیں ۔

اب انجیکشن لگانے کا انتہائی تکلیف دہ مرحلہ میرے سامنے تھا ۔ یہ وہ مرحلہ ہے جس میں بچپن ہی سے میری بڑی جگ ہنسی ہوئی ۔ میں طبیتنا" بہت نفیس ہوں اور ساتھ ہی بلا کا حساس بھی ۔ خون کو دیکھ لوں تو دل ڈوبنے لگتا ہے اور منہ سے " آئی " " اوئی " کی آوازیں نکلنا شروع ہو جاتی ہیں ۔ بچپن سے اب تک اسی حساسیت کے پیش نظر کبھی کسی سے ہاتھاپائی نہیں ہوئی ۔ اور نہ ہی کوئی ایساحادثہ ہوا جس سے جسم سے خون کا اخراج ہو ۔ میں نے کبھی کرکٹ ، ہاکی اور فٹ بال جیسے " حادثہ آور " کھیل نہیں کھیلے ۔ ہمیشہ ایسے کھیل کھیلے جو پر امن ہوتے ہیں اور جن کوعام طور پر صنف نازک سے منسوب کیاجاتا ہے ۔ جیسے ، سونا چاندی ہیرا موتی ، کوکلا چھپاکی جمعرات آئی اے جہیڑا اگے پچھے ویکھے اودی شامت آئی اے ، کھو کھو ، لوڈو ، سکریبل ، بینگو ، کارڈز وغیرہ ۔ کمپیوٹر میں بھی ( Myst ) یا ( Sims ) جیسی پر امن کھیلیں پسند ہیں ۔ بحرحال بڑی ہی مشکل سے انجیکشن لگوایا گیا ۔ اور اس تماشے کے دوران بہت سے مریض جو کلینک میں موجود تھے ، محظوظ ہوۓ ۔

ڈاکٹر صاحب کا علاج کوئی چار دن چلا ۔ لیکن اس علاج سے کوئی افاقہ نہ ہوا ۔ اور جسم کی حرارت ایک سو دو ڈگری سیلسیئس تک بڑھ گئ ۔ تب ابو جان مجھے ڈاکٹر احسان صاحب کے پاس لے گئے ۔ ڈاکٹر احسان بھی بچپن سے میرا علاج کرتے آۓ ہیں ۔ احسان صاحب قیمتی نسخہ لکھنے کے ماہر مانے جاتے ہیں ۔اس لیے ابو جان ساتھ میں ایک دو ہزار روپے بھی لے گئے ۔ حسب توقع انتہائی قیمتی نسخہ " قلم بند" کیا گیا ۔ لیکن مہنگی دوا اپنا رنگ لائی اور آج علاج کے چوتھے دن میں تندرستی محسوس کر رہا ہوں ۔کل میری دوا کا آخری دن ہے ۔ انشاء اللہ کل غسل صحت منایا جاۓ گا اور ساتھ ہی آٹھ نو دن سے بڑھی ہوئی شیو کی جاۓ گی ۔

5 comments:

WiseSabre said...

پھر بھی خدا کا شکر ادا کریں۔

میرا ایک دوست ہے اسے سارا سال نزلہ،زکام رھتا ہے۔کیونکہ اسے دسٹ الرجی ہے۔
اور اس کا کوئی علاج بھی نہیں ہے۔

شعیب صفدر said...

چلو اس بہانے تم نے نہا تو لیا ۔۔۔۔۔۔ ہاہاہاہاہا
صحت مندی مبارک ہو

iabhopal said...

زکام کا علاج ایلوپیتھی میں ہے ہی نہیں ۔ کیوں اپنے والد صاحب کی کمائی ضائع کرتے ہیں ؟
آپ ایک سال کے لئے یہ اشیاء کھانا یا پینا بند کر دیجئے ۔ پیپسی کوکا کولا وغیرہ ۔ تیز مرچ مصالحوں والی چیزیں ۔ کھٹّی چیزیں ۔ انگریزی چاۓ ۔ تیل کی تلی ہوئی چیزیں ۔ ٹھنڈا پانی ۔
گرمیوں میں دوپہر اور رات دونوں وقت کھانے کے ساتھ دہی کھائیے مگر دہی کھٹّا نہ ہو ۔ جب زکام ہو تو ہمدرد کا جوشاندہ ایک پیکٹ سے تین کپ بنا کر صبح دوپہر شام پیجئے ۔ اور تازے لیموں کی سکنجبین چینی اور نمک ڈال کر ایک دن میں دس بارہ گلاس پیجئے ۔
انشاء اللہ آپ کی زکام سے دوستی ختم ہو جاۓ گی اور آپ ایک سال بعد تلی ہوئی چیزیں کھا سکیں گے مگر باقی سے کم از کم تین سال پرہیز کرنا ہو گا ۔

iabhopal said...

اور ہاں ۔ جوشانہ کا سفوف نہیں استعمال کرنا بلاکہ وہ جس میں تمام جڑی بوٹیاں اپنی اصلی حالت میں ہوتی ہیں ۔ ایک پیکٹ میں ساڑھے چار کپ پانی ڈال کر اتنا ابلئے کہ تین کپ رہ جاۓ

محمد شمیل قریشیShameel Qureshi said...

دیر سے جواب دے رہا ہوں ۔ اس لیے معزرت قبول کیجیے ۔



WiseSabre

صاحب۔۔۔۔۔۔ یقین مانیۓ کہ بیماری میں بھی اور بیماری کے بعد بھی میں نے اللہ کا ہمیشہ شکر ضرور ادا کیا ۔





شعیب صفدر صاحب !۔۔۔۔۔۔ شکریہ ۔ میں روزانہ نہاتا ہوں ۔ بیماری میں امی جان نے مجھے ایسا کرنے سے روک دیا تھا ۔



اجمل صاحب !۔۔۔۔۔ شکریہ ۔ آپ کے اس کارآمد اور آزمودہ نسخے کو اشاء اللہ میں ضرور آزماؤں گا ۔