Friday, October 21, 2005

باعث تحریر آنکہ

ایک عرصے سے میری یہ انتہائی خواہش تھی کہ میرا ایک زاتی بلاگ ہو اور وہ بھی اردو میں ۔ لیکن میں بلاگ کے ٹیمپلیٹ بنانے یا یوں کہ لیجے کہ ایچ ٹی ایم ایل کے فن سے نابلد ہوں ۔اس وجہ سے میری یہ خواہش دل میں ہی رہی ۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا کے کیسے اور کہاں سے کام کی شروعات ہو ۔ اسی ششوپنج میں دو ماہ بیت گیے ۔ لیکن جولائی کا مہینہ میرے لیے خوش قسمت ثابت ہوا۔ وہ اس طرح کہ سپائڈر اخبار ، جس کا میں ایک عرصے سے قاری ہوں ، نے اردو کی کمپیوٹر پر ترقی کے سلسلے میں مضامین شائع کیے ۔ ان مضامین میں سے ایک میں لکھا تھا کہ آج کل اردو زبان کی انٹرنیٹ پرترقی کا زیادہ تر کام اردو بلاگز کے سر ہے اور ان اشخاص کے بارے میں لکھا گیا تھا جو مضمون نگار کے بقول اس ترقی کی کلید ہیں ۔ ایک ماہ میں ان مضامین کو نہ پڑھ پایا ۔ کیونکہ مجھے خاندانی شادیوں کے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے سے گزرنا پڑا ۔ بہاولپور سے ملتان کینٹ ۔ ملتان کینٹ سے سیدھا سرگودھا ۔ سرگودھا سے اپنے آبائی گاوں بھیرا ۔ بھیرا سے میانوالی ۔ میانوالی سے لاہور ۔ اور لاہور سے آخر کار اپنی جنم بھومی بہاولپور واپسی ہوئی ۔گھر پہنچ کر ان مضامین کو پڑھا اور انٹرنیٹ آن کر کے فردا فردا ان اصحاب کے بلاگز پر گیا جن کا ذکر سپائڈر میگ میں کیا گیا تھا ۔ میری خوش قسمتی سمجھ لیجیے کہ گزشتہ دو تین سالوں سے میں بی بی سی اردو سروس کے آن لائن صفحات پر جاتا ہوں ۔بی بی سی کی ویب سایٹ پر خبروں کو پڑھنے کے لیے خاص قسم کے حروف درکار ہوتے ہیں ۔ تو یہ حروف پہلے ہی سے میرے آپریٹیگ سسٹم سے ہم آہنگ تھے ۔ اس لیے اپنی زندگی کے اولین اردو بلاگز پڑھنے میں زیادہ دشواری نہیں ہوئی ۔ مجھے نہیں معلوم کہ کس طرح مزید اردو بلاگز کی تلاش کرتے کرتے میں نے اردو سیارے تک رسائی حاصل کرلی ۔ یہاں میری نظر "حارث کے ساتھ پکنک" پر پڑی ۔ "کسی" نے اچھوتا موضوع چنا تھا ۔ اور ساتھ ہی یہ خیال گزرا کہ "صاحب" رنگین مزاج بھی ہیں ۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ تو قدیر احمد رانا ہیں جن کے بارے میں سپایڈر میگ میں تعریف ہوئی تھی ۔ لیکن سپایڈر میگ کا مضمون نگار ان کے بلاگ کا ہوالہ دینا بھول گیا ۔ ان کے بلاگ پر جا کر معلوم ہوا کہ قدیر بھائی معقول آدمی ہیں اور مزکورہ مضمون انہوں نے اپنے عزیز دوست حار ث کو تنگ کرنے کے لیے لکھا تھا ۔ انہیں دنوں قدیر نے " اردو میں ای میل بھیجیے" لکھا ۔ میرے لیے یہ مضمون آب حیات ثابت ہوا ۔ اپنی زندگی کا پہلا اردو برقی خط میں نے قدیر کو ہی لکھا ۔ قدیر نے میری ہر طرح سے مدد کی ۔ قدیر نے مجھ پر اعتماد کرتے ہوے مجھے اردو ٹیک کا حصہ بھی بنایا ۔ اور بڑے خلوص سے میرے بلاگ کے لیے یہ خوبصورت ٹیمپلیٹ اردو کے لیے ہم آہنگ کیا ۔

میں اپنے محسن ( قدیر احمد رانا ) کو ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کرنا چاہوں گا ۔

تیرے ساغر نظر سے مے انبساط چھلکے

غم آرزو کی تلخی تیرے جام تک نہ پہنچے

تیرا خاور درخشاں رہے تاابد فروزاں

تیری صبح نور افشاں کبھی شام تک نہ پہنچے ( آمین )

اور چلتے چلتے بات یہاں تک پہنچی ۔ لیکن اردو کو کمپیوٹر پر لکھنا میرے لیے فی الحال مشکل ہے کیونکہ میں اردو کو بصری حروف نگار ( آن سکرین کی بورڈ ) کی مدد سے لکھتا ہوں ۔ اب تک اردو لکھنے کا کام ایسے ہی ہو رہا ہے ۔ امید ہے جلد ہی اردو ٹائپنگ بھی سیکھ لونگا ۔

7 comments:

Abdul Qadir said...

ہائ؁ میں صدقے، اتنی تعریفیں ، میرا آدھا کلو خون بڑھ گیا ہے ،

دیکھ لو بلاگرز کی دنیا والو میری کتنی عزت ہے ، تم بھی میرے ساتھ گفتگو کرتے ہوئ؁ ادب سے کام لیا کرو

bdtmz said...

wow
nice to hear someone from my birthplace n beloved bwp :)

Nabeel said...

شمیل، آپ کی یہ پوسٹ پڑھ کر مین نے محفل فورم پر یہ پوسٹ لکھی ہے۔ اسے ملاحظہ فرمائیں۔

Jawwad said...

اردو بلاگنگ میں خوش آمدید

میرا پاکستان said...

يہي قدير رانا ہيں جنہوں نے ميرا بلاگ سيٹ کرنے ميں بھي مدد کي اللہ ان کو جوش رکھے
اردو بلاگ برادري ميں خوش آمديد اور اميد ہے تواتر سے لکھتے رہيں گے

محمد شمیل قریشیShameel Qureshi said...

قدیر۔۔۔۔ آپ واقعی تعریف کے قابل ہيں ۔

BDTMZ ۔۔۔۔۔شکریہ ۔ آپ کی طرح مجھے بھی بہاولپور سے بڑا لگاو ہے ۔

Nabeel ۔۔۔۔۔۔میں نے آپ کی پوسٹ اردو محفل میں پڑھ لی ہے ۔ امید ہے جلد ہی کوئی خدا کا بندہ اردو ٹائپینگ ٹیوٹر بنا دے گا ۔

Jawwad۔۔۔۔۔۔ آپ پر سلامتی ہو ۔

میرا پاکیستان۔۔۔۔۔۔آپ پر سلامتی ہو۔ انشاء اللہ میں ہر ممکن کوشش کروں گا کہ پوسٹس کی اشاعت میں ناغے کم سے کم ہوں ۔

Hypocrisy Thy Name said...

اپنے بلاگ پر آپ کی تحریر کے ذریعہ یہاں پہنچا اور دیکھا کہ اتنے شوق کے ہوتے ہوۓ ایک ماہ خالی گذر گیا ۔ کہیں پھر شادیوں ميں تو نہیں کھو گئے ۔