Sunday, December 09, 2007
شہرِ محبت
بہاولپور آپ کے لیے تو صرف ایک شہر کا نام ہے ۔ لیکن میرے لیے ایک ایسا لفظ ہے جو ہزاروں احساسات کو جنم دیتا ہے ۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کیسے سنگدل ہیں وہ لوگ جو چند مفادات کی خاطر بڑی آسانی سے اپنی جنم بھومی سے دامن چھڑا لیے ہیں ۔ یہ میرا آبائی شہر نہیں پر مجھے اپنے آباء کی طرح عزیز ہے ۔ کیوں نہ ہو ؟ اس شہر نے مجھے لمحہ پیدائش سے اب تک صرف جینے کا سامان ہیں نہیں بلکہ مخصوص انداز فکر ، سوچ ، خواہشات ، اپنے ، پر اے ، دوست ، دشمن ، ہمساے ، ہم جماعت ، اساتزہ ، شاگرد اور یہ سفید پوشی ، غرض سب کچھ ورثے میں دیا ہے ۔ یہ بھی تو ورثہ ہے جو دولت اور خاندانی نام سے زیادہ قیام پزیر ہے ۔ دولت تو آپ کو چھوڑ سکتی ہے لیکن وہ مخصوص انداز فکر نہیں جو ایک شہر میں برس ہا برس رہنے سے پروان چھڑھتی ہے اور آپ کی فطرت ثانیہ بن جاتا ہے ۔پھر تمام عمر آپ اس مخصوص انداز فکر سے دنیا کو دیکھتے ہیں اور دوسروں کو بھی اسی انداز میں سوچنے کا مشورہ دیتے ہیں ۔ کسی بھی شہر میں پنپنے والی یہ مخصوص انداز فکر شہریوں کے رویے متعین کرتی ہے ۔ اور لوگوں کے یہ اجتمائی رویے انہیں کی قسمتیں لکھتے ہیں ۔ اجتمائی رویے قدرتی یا حقیقت پر مبنی ہوں تو قسمت بنتی ہے ورنہ بگڑ جاتی ہے ۔ غلط اجتمائی رویے رکھنے والا شہر ، شہر محبت نہیں ہوتا بلکہ ایسے شہر کی ماند ہوتا ہے جسے انسانی خودغرضی نے جیتے جاگتے قبرستان میں تبدیل کر دیا ہو ۔شہر مکانوں سے نہیں ، مکینوں سے آباد ہوتے ہیں ۔ انہیں کی آمد سے بستے ہیں اور انہیں کے چلے جانے سے اجڑ جاتے ہیں ۔ یہ انسانی زندہ دلی ہے جو ایک شہر میں جان ڈالتی ہے ۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ بیتے زمانوں کے قدیم شہر محبت کتنے زندہ تھے ۔ جنہوں نے کئی ایک لازوال تہزیبوں اور مزاہب کو جنم دیا ۔ آج کے یہ جدید شہر کتنے مردہ ہیں ۔ جن کی تجوریاں روپے پیسے تو اگلتی ہیں لیکن یہاں فکروعمل کی شمعیں روشن نہیں ہوتیں ۔ دور جدید کے ان مردہ شہروں میں انسان مشین کی طرح روز وشب کام کرتا ہے اور پھر ناکارہ پرزے کی طرح ٹوٹتا ہے اور بکھر جاتا ہے ۔ ایسے انسان کو بھلا کون زندہ کہے گا ؟ جو سانس تو لے لیکن اس کا دل مردہ ہو ۔ ایسے انسان کو بھلا کون شخص کہے گا ؟ جس کی شخصیت کی خودغرضی اور لالچ نے دھجیاں بکھیر دی ہوں ۔ ایسے انسان میں روح کی موجودگی کا کون ثبوت دیگا ؟ جس کی روح کی روحانیت کو نفسانی خواہشات کی اندھی تقلید نے مجروح کر دیا ہو ۔ روح ، روح سے لگاو رکھتی ہے ۔ اسی طرح روحانیت ، روحانیت کو پہچانتی ہے اور اس سے قربت حاصل کرنے میں ایسے ایسے مقام طے کرتی ہے جن کی موجودگی کو بے روح ، نیم مردا دل کبھی سمجھ نہیں پایا ۔ جو دل ، شہر محبت میں بسی اس روحانت کو پہچانتا ہے ، ہم اسے دل بینا کہتے ہیں ۔ ایسے ہی دل بینا کو ہر انسان میں بیدار کرنے کی آس میں حضرت اقبال لکھتے ہیں عقل گو آستاں سے دور نہیں اس کی تقدیر میں حضور نہیں دل بینا بھی کر خدا سے طلب آنکھ کا نور ، دل کا نور نہیں علم میں بھی سرور ہے لیکن یہ وہ جنت ہے ، جس میں حور نہیں کیا غضب ہے کہ اس زمانے میں ایک بھی صاحب سرور نہیں ایک جنوں ہے کہ باشعور بھی ہے ایک جنوں ہے کہ با شعور نہیں ناصبوری ہے زندگی دل کی آہ ! وہ دل کہ جو ناصبور نہیں بے حضوری ہے تیری موت کا راز زندہ ہو تو تو بے حضور نہیں حضرت اقبال کی اس مشہور غزل میں ناصبوری ( بے چینی ) کو دل کی زندگی کہا گیا ہے ۔ دل بینا کی ایک مخصوص خاصیت یہ بھی ہے کہ وہ اچھائی کو اپناتا ہے اور برائی سے دور بھاگتا ہے ۔ دل بینا کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ بھلائی کرے اور دوسروں کو بھلائی کرنے میں مدد دے اور برائی کو روکے اور دوسروں کو بھی برائی کو روکنے میں مدد دے ۔ کیونکہ زندگی تو یہی ہے جو بھلائی پھیلانے اور برائی ختم کرنے میں صرف ہو ۔ دل ہر وقت نیکی کرنے اور گناہ سے بچنے کے لیے بے چین رہے ۔ یہی جنوں دراصل باشعور جنوں ہے ۔ ہم میں سے کئ ایک " اہل دل " ایسے ہیں جو دنیا میں برپا فسق و فجور کو رات دن دیکھتے ہیں لیکن پھر بھی اپنے دلوں کو پرسکون پاتے ہیں ۔ اپنے دل کے اس سکون کو وہ روحانت سمجھ بیٹھے ہیں ۔ کون ہے جو ان کے " نادان دل " کو یقین دلاے کہ اس عزاب کی گھڑی میں یہ سکون روحانی نہیں بلکہ شیطانی ہے ۔
Saturday, November 17, 2007
دس خوبصورت ترین سائٹس
نیٹ گردی کرتے ہوۓ مجھے کچھ ایسی سائٹس کا تعارف پڑھنے کو ملا جو مصنف کے بقول خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہیں ۔ مصنف نے ساتھ یہ بھی بیان کیا ہے کہ اس نے ان ہی ویب سائٹس کو خوبصورت ڈیزائن رکھنے کا درجہ کیوں دیا ۔
Monday, November 27, 2006
بلاگز پر حاضری خبررساں اداروں سے زیادہ ہے ۔
میں آج ایلیکسا کی سائٹ پر گیا اور وہاں پر میں نے ایک مشہور بلاگز کی کمپنی بلاگرز پر آنے والی انٹرنیٹ ٹریفک کا موازنہ بی بی سی اور سی این این سے کیا تو نتیجہ اس گراف کی ضروت میں سامنے آیا ۔ میں پہلے ہی سے جانتا تھا کہ لوگ آج کل بلاگ زیادہ پڑھتے ہیں لیکن میرے گمان میں بھی نہ تھا کہ خبر رساں اداروں کی سائٹس پر حاضری بلاگز سائٹس کی نسبت اتنی کم ہوگی ۔


Tuesday, September 26, 2006
صدر مشرف کی کتاب اور بی بی سی کا رد عمل
صدر پاکستان نے اپنی زندگی اور اپنے خیالات کو مربوط انداز میں پیش کرنے کے لیے ایک کتاب لکھی ہے ۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ اس خبر کے سلسلے میں بی بی سی اردو سروس کی ابتدائی ریپورٹس اس کتاب کے خلاف سی تھیں اور صاف دکھائی دیتا تھا کہ ہر طرح کی کوشش کی جا رہی کہ لوگوں کو اور خاص طور پر پاکستانی عوام کو اس کتاب کے سلسلے میں گمراہ کیا جاۓ ۔ میرے خیال میں کتاب لکھنا کوئی برا فعل نہیں ہے ۔ اور کتاب میں اپنے خیالات پیش کرنا بھی برا نہیں ۔ تو پھر ایسا کیوں ہے کہ اسے متنازع بنایا جاۓ ۔کتاب پڑھنے کے لیے لکھی جاتی ہے ۔ لوگوں کو اسے پڑھنے دیا جاۓ اور پھر پول وغیرہ کراۓ جائیں ۔
یہ ایک الگ بات ہے کہ کتاب کو جتنا متنازع بنا کر پیش کیا جاۓ گا اتنا ہی اس کے لیے لوگوں میں اس کا مواد پڑھنے کے لیے دلچسپی بڑھے گی ۔ لیکن کتاب پاکستان میں مقبول ہونے کی صورت میں اب رپورٹنگ کسی حد تک سنجیدہ کی جا رہی ہے ۔ جو بی بی سی کے صفحات دیکھ کر محسوس کیا جا سکتی ہے ۔
یہ تحریر نا مکمل حالت میں غلطی سے اردو ٹیکنالوجی بلاگ میں پوسٹ ہو گئی تھی ۔ جس کے سلسلے میں معذرت قبول کیجیے ۔
پاکستان سے بلاگ تک رسائي حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گے ربط کو استعمال کریں ۔
http://www.pkblogs.com/shameelblog
یہ ایک الگ بات ہے کہ کتاب کو جتنا متنازع بنا کر پیش کیا جاۓ گا اتنا ہی اس کے لیے لوگوں میں اس کا مواد پڑھنے کے لیے دلچسپی بڑھے گی ۔ لیکن کتاب پاکستان میں مقبول ہونے کی صورت میں اب رپورٹنگ کسی حد تک سنجیدہ کی جا رہی ہے ۔ جو بی بی سی کے صفحات دیکھ کر محسوس کیا جا سکتی ہے ۔
یہ تحریر نا مکمل حالت میں غلطی سے اردو ٹیکنالوجی بلاگ میں پوسٹ ہو گئی تھی ۔ جس کے سلسلے میں معذرت قبول کیجیے ۔
پاکستان سے بلاگ تک رسائي حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گے ربط کو استعمال کریں ۔
http://www.pkblogs.com/shameelblog
Wednesday, May 31, 2006
میری زندگی کی اولین نعت


یہ میری زندگی کی اولین نعت ہے ۔ یہ نعت میں نے حضور کے واقع معرج کے سلسلے میں لکھی ہے ۔ اس میں ، میں حضور کی تعریف کرتا ہوں اور ان کی عظمت بیان کرتا ہوں اور ساتھ ہی اس دنیا کی بے سباتی بھی کہ کیا ہی سمجھدار لوگ ہیں جو اس دنیا کو ایک قید خانے سے بڑھ کر اہمیت نہیں دیتے ۔ یہی لوگ صحیح مانوں میں روز قیامت کے دن کامیاب ہوں گے یعنی بادشاہ ہوں گے ۔ اللہ نے اس دنیا کو ورثے میں فانی زمانے دیے ہیں ۔ جو آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں ۔ اسی طرح ایک دن زمین بھی ختم ہو جاۓ گی ۔
میں نے اس نعت میں " درخشاں ستارے " ان نبیوں اور رسولوں کے کہا ہے جو حضرت محمد سے پہلے آۓ تھے ۔ لیکن معراج کے موقع پر وہ بھی حضور کے مقتدی بنے اور حضور ان کے امام ہوۓ اور ان کو جماعت کروائي ۔ یعنی اس سے حضور کی شان کا اندازہ ہوتا ہے ۔
امید ہے آپ سب احباب کو یہ میری اولین نعت پسند آۓ گي ۔ آپ احباب کی راۓ کا مجھے بے چینی سے انتظار رہے گا ۔
میری اس اولین نعت کی اصلاح جناب اعجاز عبید صاحب نے کی ہے ۔ اس سلسلے میں ان کا بہت شکر گزار ہوں ۔ اصلاح کے سلسلے میں کچھ اور حتمی کانٹ چھانٹ ابھی جاری ہے
پاکستان سے بلاگ تک رسائي حاصل کرنے کے لیے نیچے دیے گے ربط کو استعمال کریں ۔
http://www.pkblogs.com/shameelblog
میں نے اپنے بلاگ میں ایک نیا پول ( راۓ شماری ) شامل کی ہے ۔ جس میں قارین سے پوچھا گیا ہے کہ وہ پاکستانی خبروں کے لیے کس خبر رساں ادارے کی خبریں سننا پسند کرتے ہیں ۔ براہ مہربانی ، آپ اس راۓ شماری میں ضرور شامل ہوں ۔ شکریہ !
Subscribe to:
Posts (Atom)